3 جون، 2010، 2:55 PM

حضرت فاطمہ زہرا (س)

حضرت فاطمہ زہرا (س) عورتوں کے لئے کامل و اکمل نمونہ ہیں

حضرت فاطمہ زہرا (س) عورتوں کے لئے کامل و اکمل نمونہ ہیں

حضرت فاطمہ زھرا (س) کی ولادت با سعادت بعثت کے پانچویں سال ۲۰جمادی الثانی، بروز جمعہ مکہ معظمہ میں ہوئی ۔ آپ کےوالد ماجد ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی(ص) اور والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت فاطمہ زھرا (س) کی ولادت با سعادت بعثت کے پانچویں سال ۲۰جمادی الثانی، بروز جمعہ مکہ معظمہ میں ہوئی ۔ آپ کےوالد ماجد ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی(ص) اور والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پانچ برس تک اپنی والدہ ماجدہ حضرت خدیجۃ الکبری کے زیر سایہ رہیں اور جب بعثت کے دسویں برس خدیجۃ الکبریٰ علیہا السّلام کا انتقال ہو گیا تو ماں کی آغوش سے محرومی کے بعد رحمۃ للعالمین نبی مکرم کے زير سایہ تربیت پائی اور پیغمبر اسلام کی اخلاقی تربیت کے آفتاب کی شعاعیں براهِ راست اس بے نظیر گوہر کی آب وتاب میں مسلسل اضافہ کررہی تھیں . حضرت فاطمہ زہرا (س) عورتوں کے لئے کامل و اکمل نمونہ ہیں۔

جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کو اپنےبچپن میں بہت سے  ناگوار  حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ پانچ سال کے سن میں سر سے ماں کا سایہ اٹھ گیا۔ باپ کے زیر سایہ زندگی شروع ہوئی تو  اسلام کے دشمنوں کی طرف سے رسول اکرم (ص) کو دی جانے والی اذیتین سامنے آئيں کبھی اپنے بابا کے جسم مبارک کو پتھروں سے لہو لہان دیکھا تو کبھی مشرکوں کی جانب سے باپ کے سر پر کوڑا ڈالنے کو مشاہدہ کیا۔ کبھی دشمنوں کی طرف سےباپ کے قتل کے منصوبہ کو مشاہدہ کیا۔  کم سنی کے عالم میں بھی سیّدہ عالم نہ گھبرائیں اور نہ خوفزدہ ہوئیں بلکہ اس ننھی سی عمر میں اپنے عظیم باپ  اور فخر دوعالم کی مدد گاربنی رہیں۔

نام،القاب و کنیت

آپ کا نام فاطمہ اور مشہور لقب زہرا ، سیدۃ النساء العالمین ، راضیۃ ، مرضیۃ ، شافعۃ، صدیقہ ، طاھرہ ، ذکیہ،خیر النساء اور بتول ہیں۔ آپ کی مشہور کنیت ام الآئمۃ ، ام الحسنین، ام السبطین اور امِ ابیہا ہے۔ ان تمام کنیتوں میں سب سے زیادہ حیرت انگیز ام ابیھا ہے، یعنی اپنے باپ کی ماں ، یہ لقب اس بات کا مظہرہے کہ آپ اپنے والد بزرگوار کو بے حد چاہتی تھیں اور کمسنی کے باوجود اپنے بابا کی روحی اور معنوی پناہ گاہ تھیں ۔

پیغمبر اسلام (ص) نے آپ کو ام ابیھا کا لقب اس لئے دیا ۔ کیونکہ عربی میں اس لفظ کے معنی، ماں کے علاوہ اصل اور مبداء کے بھی ہیں لہذااس لقب( ام ابیھا) کا ایک مطلب نبوت اور ولایت کی بنیاد اور مبدابھی ہے۔ کیونکر یہ آپ ہی کا وجود تھا، جس کی برکت سے شجرہ ٴ امامت اور ولایت نے  رشد  پایا ، جس نے نبوت کو نابودی اور نبی خدا کو ابتریت کے طعنہ سے نجات دلائی۔

News ID 1094813

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha